شاعر: مولانا عباس ثاقب
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمام ارض و سماوات مشکبو ہو جائیں
مرے رسول(ص) اگر محو گفتگو ہو جائیں
نصیب ہو مرے آنکھوں کو وہ نمازِ وصال
کہ چار اشک بہائیں تو باوضو ہو جائیں
گناہگار قدم داخل حرم کیا ہوں
یہی بہت ہے مدینے کے روبرو ہو جائیں
زمین پہ پھینک دیا ہے ہمیں زمانے نے
ترا کرم ہو تو پھر مائل نمو ہو جائیں
ہر ایک نعت میں ہو نشہء لقائے رسول(ص)
ہمارے لفظ بھی ہم رتبہء سبو ہو جائیں
عطا ہمیں بھی ہو دیدارِ گنبدِ خضری
سو ہم بھی اپنے علاقے کی آبرو یو جائیں
ترے حضور میں چہرے پہ شرم کی سرخی
کچھ اس کمال پہ آئے کہ سرخرو ہو جائیں
سکھا رہا ہے یہ اخلاقِ مصطفی(ص)، ثاقب!
ہو کوئی چاک گریباں تو ہم رفو ہو جائیں









آپ کا تبصرہ